Saturday, August 16, 2008

عوامی انقلاب

پانپور میں لاکھوں لوگوں کا اجتماع ، نذرانۂ خون پر شکرانے کا تاریخی مظاہرہ
شاہ عباس
پانپور16اگست



'خونی لکیر توڑ دو،آر پار جوڑ دو'اور 'ہم کیا چاہتے آزادی ' کے نعروں کی گونج میںکل لاکھوں لوگوں نے مرحوم حریت لیڈر شیخ عبد العزیز کو اُنکے آبائی قصبے پانپورمیں شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس موقعے پر قصبہ زعفران پانپور کو شیخ عبد العزیز کی تصاویر اور سبز و سیاہ پرچموں سے مزین کیا گیا تھا۔ مرحوم شیخ عبد العزیز 11اگست کو خط انتظام عبور کرنے کی کوشش میں چہل اوڑی کے مقام پر جاں بحق ہوئے تھے۔ مرحوم شیخ عزیز کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لئے آزادی پسند تنظیموں کی اپیل پر وادی کے طول و عرض سے لاکھوں لوگ پانپور پہنچے تھے۔ پانپور کاعید گاہ اور اُس سے باہر جموں سرینگر شاہراہ کے علاوہ قرب و جوار میں تمام مکانوں کے در و دیواراور چھت لوگوں سے اٹے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ گالندر سے پانتہ چھوک تک کی شاہراہ پر انسانی سروں کا ایک سیلاب پانپور پہنچنے کی کوشش کررہا تھا تاہم اس عوامی سیلاب کو اس کا موقعہ نہیں ملا کیونکہ قصبہ پانپور پہلے ہی لوگوں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا۔ اور کہیں تل دھرنے کیلئے جگہ موجود نہیں تھی۔صرف عید گاہ پانپور میں موجود لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں دم گھٹنے کے نتیجے میں درجنوں افراد بے ہوش ہوگئے ۔ عید گاہ کے میدان میں حد سے زیادہ لوگ داخل ہونے کے نتیجے میں یہاںنصب شامیانے اور لائوڈ سپیکر کا نظام درہم برہم ہوگیا اور مقررین کی آوازیں سامعین تک نہیں پہنچیںجس کے نتیجے میں لوگوں کو کافی مایوسی ہوئی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے میں سخت مشکلات پیش آئیں۔ عید گاہ پانپور کے اندرلوگوں کی بھاری تعداد کے نتیجے میں حریت گ کے چیر مین سید علی گیلانی بھی ڈائس تک نہیں پہنچ سکے اور انہوں نے ڈائس سے دور ہی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عید گا ہ قصبہ پانپور کل دن بھرا زادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعروں سے گونجتا رہا۔ ادھر وادی کے اطراف و اکناف کی شاہرائوں پر ہر قسم کی گاڑیوں پر سوار پیر وجوان نعرے لگاتے ہوئے جوق در جوق پانپور کی طرف صبح سے ہی رواں دواں نظر آرہے تھے جن میں سے بیشتر لوگ تقریب اختتام پذیر ہونے تک پانپور نہیں پہنچ پائے۔ لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں بھارت مخالف بینر اور سبز پرچم اُٹھارکھے تھے اور اُنہیں جہاں کہیں بھی کوئی ٹاور نظر آیا انہوں نے اُس پر سبز پرچم لہرایا ۔خود پانپور میں بھی لوگوں نے عید گاہ کے متصل قائم موبائل ٹاور پر چڑھ کر اس پر سبز پرچم لہرایا۔پانپور کی ایک مسجد کے امام نے اپنا مخفی رکھنے کی شرط پر'اطلاعات' کو بتایا'' میں نوے کی دہائی کی عوامی ریلیوں کا بھی چشم دید گواہ ہوں تاہم میں نے آج کی جیسی عوامی ریلی نہیں دیکھی ہے''۔ کل پانپور جانے والے لوگوں کے لئے جنوب کی طرف اونتی پورہ اور شمال کی طرف حیدر پورہ اور سولنہ سے مقامی لوگوں نے لفافہ بند کھانے اور مشروبات کا انتظام کر رکھا تھاجبکہ خود پانپور میں بھی ایک بہت بڑا لنگر قائم کیا گیا تھا۔ایک مقامی شہری طارق احمد نے 'اطلاعات' کو بتایا'' ہم نے عزم کیا ہے کہ آج پانپور سے کوئی بھی شخص بھوکے پیٹ واپس نہیں جانا چاہیئے''۔

No comments: