سرینگراورپلوامہ میں فائرنگ،100سے زائد زخمی،مزید2افرادجاں بحق سابق وزیرکا مکان ،پولیس چوکیاں،بنکراورگاڑیاں نذرآتش
شوکت حمید ،ایوب جاوید
سرینگر//”مظفرآباد چلو “پروگرام ناکام بنانے اور احتجاج کو کچلنے کیلئے فورسزکی فائرنگ سے زخمی ہوئے مزید2نوجوان زخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے اس طرح گذشتہ 2روز کے دوران جاں بحق ہونے والے افرادکی تعداد27تک پہنچ گئی ہے ۔اس دوران شہر سرینگر کے ڈاﺅن ٹاﺅن علاقے اور پلوامہ میں درجنوں مقامات پر احتجاجی جلوسوں کو منتشر کرنے کےلئے سی آر پی ایف نے بے دردانہ طریقے سے لاٹھی چارج کیا اور گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 100سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پلوامہ میں ایک سابق وزیرکے مکان کو نذرِآتش کیاگیا جبکہ پوری وادی میں کئی فورسز کے بنکراور پولیس چوکیوں کے علاوہ پولیس کی گاڑیوں کو پھونک ڈالاگیا۔ تفصیلات کے مطابق 11اگست کو باغ مہتاب میں فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوا فیصل احمد ڈار ولد شوکت احمد ڈار ساکنہ نوہٹہ بدھ کو اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر جاںبحق ہوگیا۔ فیصل احمد کے جاں بحق ہونے کی خبرجونہی نوہٹہ پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا پورے نوہٹہ اور ملحقہ علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔اس موقعہ پر نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر ایک بار پھراحتجاجی مظاہرے شروع کئے اور سی آر پی ایف اہلکاروںپر زبردست پتھراو
¿ شرو ع کیا۔جس کے بعد یہاں سے ایک جلوس نکالا گیا تاہم سی آرپی ایف اہلکاروں نے جلوس کو منتشر کرنے کے لاٹھی چارج کیا اور ٹیر گیس کے گولے داغے۔ بعد میں نوجوان کی تجہیز وتکفین کے بعد ہزاروں لوگوں نے اس کی نمازہ جنازہ پڑھی اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ اسے سپرد خاک کیا گیا۔رعناواری کے قریب فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوا حفیظ اللہ بابا ولد محمدجمال ساکنہ برتھنہ قمرواری بھی اسپتال میںزخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔اس کی میت جب اس کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو یہاں قیامت صغریٰ بپا ہوگئی ۔اس طرح 11اگست کو مظفرآباد چلو اور اسکے اگلے دن یعنی 12اگست کوانتہائی سخت کرفیو کے باوجودعوامی جلسے جلوسوں کو ناکام بنانے کے لئے فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد27ہوگئی ہے۔کل شام بسنت باغ سرینگر میں سی آر پی ایف اہلکاروں نے اس وقت فائرنگ کی جب یہاں کچھ لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی ۔اس موقعہ پر فورسز اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی ۔جس کے نتیجے میں حیات احمد ولد فاروق احمد ،شبنم ،پروینہ اور ضمیر احمد ولد غلام رسول گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ۔انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔اس واقعے کے بعد گاﺅ کدل ،بسنت باغ اور مائسمہ میں لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر نکل آیا اور فورسز کے خلاف مظاہرے گئے ،فورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے زبردست ٹیر گیس شلنگ کی اور شام دیر گئے تک علاقے میں حالات کشیدہ تھے ۔اس سے پہلے سرینگر میں کل صبح8بجے انتظامیہ نے کرفیو میں 11 بجے تک ڈھیل دینے کا اعلان کیا جس میں بعد میںوقفے وقفے شام تک توسیع کی گئی۔ سولنہ، رام باغ ، نٹی پورہ، چھانپورہ، باغ مہتاب میںکل صبح سے ہی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔مائسمہ میں لوگ سڑکوں پر بیٹھ گئے اور ہاتھوں میں سیاہ پرچم لیکر آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔شہر خاص کے نوہٹہ، خانیار، راجوری کدل،بہوری کدل، فتح کدل، بمنہ، بٹہ مالو اورصفاکدل میںمظاہروں کے دوران پتھراو
¿،ٹیر گیس شلنگ اورلاٹھی چارج کے واقعات پیش آئے۔ بمنہ میں مظاہرین نے سی آر پی ایف پر زبردست سنگباری کی جس کے نتیجہ میں کئی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جواب میںسی آرپی ایف نے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں دوافراد زخمی ہوئے ۔ امام مسجد سمیت کئی افراد کے لہولہان ہونے کے بعد مظاہرین اور زیادہ مشتعل ہوگئے اور امام مسجد کو گولی مار کر زخمی کرنے کی خبر پورے بمنہ اور ملحقہ علاقوں میں پھیل گئی جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میںلوگ اپنے گھروں سے باہر آگئے اور انہوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ اس دوران ہزاروںلوگوں نے ایک جلوس نکالا جس دوران جلوس میں شامل نوجوانوں نے مشتعل ہوکر بمنہ میں قائم سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے آفس،ایک جپسی اور کار کو نذر آٹش کرڈالا جبکہ مظاہرین نے پولیس و سی آر پی ایف پرزبردست سنگباری کی اور پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولنے کی کوشش کی ۔ نوہٹہ سرینگر میںبھی لوگوں نے پرتشد د احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ خانیار سے ہزاروں کی تعداد میںلوگوں نے ایک جلوس نکالا جس لالچوک سرینگر کے ایم ڈی اڈہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تاہم اس موقعہ پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے گولے جس کے نتیجہ میں نصف درجن کے قریب افراد زخمی ہوگئے۔ صفا کدل سرینگر میں مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو پکڑ کر اس کی شدید مارپیٹ کی جبکہ اس کا سکوٹر بھی نذر آتش کیا گیا۔ مشتعل ہجوم نے صفاکدل تھانے پر زبردست پتھراﺅ کیااور پولیس نے جوابی کارروائی میں مظاہرین پر اشک آور گولوں کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی ۔فتح کدل سرینگر میں بھی نوجوانوں کی ایک ٹولی نے پولیس اسٹےشن پر پتھراﺅ کر کے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے نوجوانوں پر زبردست لاٹھی چارج کر کے ان پر اشک آور گےس کے گولوں کی برسات کی لیکن ہجوم منتشر نہیں ہوا جس کے بعد پولیس نے فائرنگ کر دی اور گولی لگنے کے نتےجے میں 2نوجوان زخمی ہوئے جنہیں صدر اسپتال منتقل کیا گےا ۔ رعناواری میں بھی پولیس اسٹےشن پر پتھراﺅ کیا گےا ۔کرن نگر میں لوگوں کے ایک بھاری جلوس نے سی آر پی ایف کے بنکر پر دھاﺅا بول کر اسے منہدم کر دےا جس کے جواب میں فورسز نے مظاہرین پر زبردست لاٹھی چارج کر کے کئی افراد کو زخمی کر دےا۔ نوہٹہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب باغ مہتاب میں کل زخمی ہوئے فےصل احمد کی لاش وہاں پہنچائی گئی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے وہاں احتجاجی مظاہرے کئے اور لاش کو جلوس سمےت ملہ کھاہ پہنچاےا جہاں اسے سپرد خاک کیا گےا ۔مذکورہ نوجوان اپنے ننہال باغ مہتاب گیا تھا جہاں سی آر پی ایف نے ایک جلوس پر فائرنگ کی ۔کنہ کدل میں بھی فورسز اور مشتعل نوجوانوں کے مابےن ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا ہو گئی اور یہ ٹکراﺅ دیکھتے ہی دیکھتے جھڑپوں میں تبدیل ہو گےا ۔مشتعل نوجوانوں نے جگہ جگہ پر فورسز اہلکاروں پر زبردست پتھراﺅ کیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے گھروں میں توڑ پھوڑ کر ڈالی اور سامان تہس نہس کر دےا ۔لوگوں کے مطابق فورسز اہلکار اس قدر مشتعل تھے کہ انہوں نے کئی مکانوں کے شےشے چکنا چور کر دیئے اور پوری بستی میں ادھم مچا دی ۔رامباغ میں کل شام زم زم کمپلیکس کے قریب سی آر پی ایف اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر مرد وزن کی پٹائی کی اور مکانوں کے شیشے توڑ ڈالے ۔بٹہ مالو،نٹی پورہ ،بائی پاس ، بسنت باغ ،برتھنہ اورگاﺅ کدل میں بھی مظاہرین اور فورسز و پولیس اہلکاروں کے مابےن جھڑپیں ہوئیں ۔اس دو ران کل صبح ڈےموکریٹک پولٹیکل مومنٹ کی طرف سے ایک جلوس نکالا گےا جس کی قےادت تنظیم کے سینئر لیڈر عبدالرشیدڈار اور یار محمد خان کر رہے تھے ۔جلوس جونہی بربرشاہ ،نئی سڑک،بسنت باغ،گاﺅ کدل سے ہوتا ہوا ایم ڈی اڈہ پہنچا تو پولیس نے جلوس پر دھاوا بول کران پر زبردست لاٹھی چارج کیا اور ٹیرشلینگ کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتےجے میں 20افراد زخمی ہو گئے ۔ بربرشاہ میں نوجوانوں کی ٹولیاں مشتعل ہوئیں اور انہوں نے سی آر پی ایف اور پولیس اہلکاروں پر زبردست پتھراﺅ کیا جس کے نتےجے میں فورسز نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ کر ڈالی جس کے نتےجے میں علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ڈلگیٹ میں خواتین نے ایک جلوس نکلا جس کے بعد وہاں کشیدگی پھیل گئی ۔اس دوران بیلو پلوامہ میں کل شام اسوقت حالات نے کشیدگی اختیار کی جب علاقے میں قائم سی آر پی ایف کیمپ سے وابستہ اہلکار بستی میں داخل ہوئے اور وہاں ادھم مچادی، فورسز کے اہلکاروں نے گھروں میں داخل ہوکر مکینوں کو بے دردی سے زد کوب کیا اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔ فورسزاہلکاروں نے جامع مسجد بیلو کو بھی شدید نقصان پہنچایا جبکہ فیاض احمد وانی کی ٹاٹا سومو گاڑی بھی تباہ کی گئی۔ سی آرپی ایف نے عاشق حسین میر، غلام قادر وانی، محمد سلطان وانی اور خورشید احمد ڈار کی ہڈی پسلی ایک کردی جسکے بعد علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پنچائت گھر کو آگ لگادی۔ مشتعل لوگوں نے کیمپ کا گھیراﺅ کرنے کی کوشش کی جسکے بعد فورسز نے فائرنگ کرکے 30افراد کو زخمی کیاجن میں مشتاق احمد ڈار ،فینسی ،عبدالمجید ڈار ،مشتاق احمد ،حنیفہ بیگم اور فاروق احمد ڈار شامل ہیں۔ زخمیوں کو سرینگر کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔جہاں 4کی حالت تشویشناک ہے ۔اس واقعے کے بعد راجپورہ اور دیگر دیہات میں لوگ مشتعل ہوئے اور شیخ آرہ میں ممبر اسمبلی ممبر سید بشیر احمدکے رہایشی مکان کو نذر آتش کیاجبکہ پلوامہ قصبے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔راجپورہ میں پولیس نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی ۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے علاقے میں 2 روز سے جاری پر امن احتجاجی مظاہروں کا بدلہ کیلئے بستی پر ہلہ بول دیا۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ کل شام جب پلوامہ سے زخمیوں کو سرینگر لایا جارہا تھا تو کاکہ پورہ اور بادام باغ میں فورسز نے گاڑیوں کو روک لیا اور انہیں اسپتال جانے سے روک لیا۔اس دوران جب زخمیوں کو صدر اسپتال لایا گیا تو یہاں رات کے 8بجے پولیس نے کیجولٹی میں فائرنگ کی ۔جس کے نتیجے میں پورے اسپتال میں افرا تفری مچ گئی اور اسپتال میں داخل کئی مریض بے ہوش ہوگئے۔ضلع کے کاکہ پورہ، مورن ،نائنہ ترال، مندورہ اور پرچھو دیہات میں بھی لوگوں نے فورسز پر توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کے الزامات عائد کرکے حکام سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ترال سے سید اعجاز نے اطلاع دی ہے کہ مندورہ ترال میں حالات اسوقت کشیدہ ہوگئے جب وہاں لوگوں نے شیخ عزیز کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ اس موقعہ پر سی آر پی ایف کے اہلکار وہاں نمودار ہوئے اور اُنہوں نے لوگوں پر دھاوا بول دیا جسکے نتیجے میں لوگ مسجد میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ سی آر پی ایف اہلکاروں نے مسجد پر بھی دھاوا بول دیا اور اس کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ ڈالیں اور لوگوں کی شدید مارپیٹ کی جس کے نتیجے میں سجاد احمد گنائی، ہلال احمد راتھر ، غلام حسن راتھر، یونس احمد ، سلیم یوسف اور امتیاز احمد بٹ نامی نوجوان شدید طور پر زخمی ہوئے۔ شکار گاہ ترال سے ہزاروں لوگوں مشتمل ایک جلوس نکالاگیا اور جب جلوس ہائن کے مقام پر پہنچ گیا تو پولیس ٹاسک فورس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے جلوس کو منتشر کرنے کےلئے لاٹھی چارج کیا اور آنسوگیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں 2افراد شدیدطورپر زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد کا شدید زد و کوب کیاگیا۔نودل ترال سے ایک اور جلوس نکالاگیا اور جب لوگ بجہ کول کے نزدیک پہنچ گیا تو اس موقعہ پر سی آرپی ایف نے لوگوں پر شلنگ کی جسکے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ امیراآباد ترال میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ کل ترال میں ہوئے تشدد آمیز واقعات کے دوران 35افراد زخمی ہوئے۔ سوپور سے کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار غلام محمد نے اطلاع دی ہے کہ سوپور میں مسلسل کرفیو کی وجہ سے عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، ضروریات زندگی کی چیزوں کی زبردست قلت پائی جارہی ہے ۔اگرچہ وادی کے دیگر علاقوں میں کرفیو میں ڈھیل دی گئی تاہم سوپور میں کوئی نرمی نہیں برتی گئی۔اس دوران ہائیگام اور دوسرے علاقوں سے سبزی کے ٹرک سوپور لائے گئے۔بٹہ پورہ میں جونہی ایک ٹرک پہنچ گیا تو ایس ٹی ایف ٹرک کو اپنے ساتھ لیا۔جس کے بعد لوگوں نے جلوس نکالا ۔جلوس میں شامل لوگوں نے شیو سینا کے بال ٹھاکرے کو پتلا نذر آتش کیاجس کے بعد فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ایس ٹی ایف اہلکار سوپور میں داخل ہوئی اور وہاں موجود لوگوں کی مارپیٹ کی۔ایس ٹی ایف نے پورے قصبے میں خوف ودہشت مچاکراخبار فروشوں پر ٹوٹ پڑے اور انکی زبردست مارپیٹ کرکے اخبار فروخت کرنے سے روک لیا۔اس دوران سوپور کے اندرونی علاقوں سے بھی جلوس نکالے گئے اور فورسز نے انہیں روکنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔چرار شریف سے غلام قادر بیدار نے اطلاع دی ہے کہ چرار شرےف میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکالا۔پولیس نے اس موقعہ پر مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گےس کے گولے داغے جس کے جواب میں مشتعل ہجوم نے پولیس اہلکاروں پر زبردست سنگباری کی اور اس سنگباری کے نتےجے میں6پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے جبکہ پولیس اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں 19 افراد زخمی ہوئے ۔ مظاہرین اس قدر مشتعل ہوئے اور انہوں نے وہاں اولڈ پولیس اسٹےشن پر دھاوا بول کر اسے نذر آتش کر دےا ۔اس موقعہ پر پولیس اسٹےشن کی حفاظت پر مامور اہلکار کھڑیوں سے چھلانگ لگا کر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔گاندربل سے کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ مینگام، وتہ لار، ہاری پورہ سے جلوس نکالا گیا اور مختلف علاقوں جن میں وائل، نونر، سرژ، گراج اور دھوبی پورہ شامل ہیں، کے لوگ جلوس میں شامل ہوتے گئے اور بیہامہ چوک گاندربل پہنچ کر جلوس میں شامل لوگوں کی تعداد 10ہزار تک پہنچ گئی جو بی جے پی اور شیو سینا کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔ جلوس میں شامل لوگوں نے بیہامہ چوک اور توحید چوک میں کھمبوں پر سبز پرچم نصب کئے۔ بعدمیں جلوس ایک بجے پرامن طور پر منتشر ہوا۔ اسی اثناءمیں چھترگل، وُسن سے بھی قریب1500لوگوں پر مشتمل جلوس بیہامہ پہنچا جہاں انہوںنے ڈی سی آفس گاندربل پر سبز پرچم نصب کرنا چاہا تاہم گاندربل کے تحصیلداراور ایس ایچ او کے سمجھانے بجھانے کے بعد لوگوںنے ڈی سی آفس کے متصل عمارت میں سبز جھنڈا نصب کیا اور پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ دریںا ثناءزخمی ہوئے اعجاز احمد ماگرے کو صورہ سے رخصت کرنے کے بعد اسے جلوس کی صورت میں گھر پہنچایا گیا۔ناگہ بل میں مشتعل لوگوں نے پولیس گھارت پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو بھگادیا۔کولگام سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کولگام کے کیلم حابلش، محمد پورہ، مالون، پہلو، کاڈڑ، کھڈونی، قیموہ میں ہزاروں لوگوںنے جلوس نکالا اور کولگام بازار میں جمع ہوکر آزادی کے حق اور انتہا پسند جماعتوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ کولگام کے عیدگاہ میں پولیس اور فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بعدمیںمظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ ادھر بجبہاڑہ میں مظاہرین نے DFOمجسٹریٹ اور DFOپلوامہ کے گھروں کی توڑ پھوڑ کی جبکہ میونسپل ٹاﺅن پنچایت نیشنل بنک اور دیگر کئی سرکاری عمارتوں پر شدید پتھراﺅ کیا۔ مظاہرین نے سنگم بجبہاڑہ میں دہلی پبلک سکول کی عمارت پر بھی حملہ کرکے وہاں توڑ پھوڑ کی۔بارہمولہ سے کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار الطاف بابا نے اطلاع دی ہے کہ بارہمولہ میں کل شام 5بجے سے 7بجے تک کرفیو میں ڈھیل دی گئیجس کے دوران اولڈ ٹاون برج کے قریب احتجاجی جلوس نکالا اور نعرے لگائے ۔بانڈی پورہ میںگذشتہ روز ہوئی ہلاکتوں کے خلاف کل بھی احتجاج جاری رہا۔اس دوران جوالا پورہ بڈگام میں بھی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔
No comments:
Post a Comment