Monday, August 11, 2008

خونی لائن روندنے کیلئے تاریخی خونین مارچ



فونٹ سائ Decrease font Enlarge font
image


لاکھوں افراد پر مشتمل جلوسوں پر فائرنگ، شیخ عبدالعزیز خاموش کردئے گئے



اشفاق تانترے، شاہ عباس، شاہد علی
بارہمولہ سرینگر
کشمیر کے دوحصوں کو جدا کرنیوالی خونی لکیر یا کنٹرول لائن کو روندنے کی کوشش میں کل وادیٔ کشمیر کے کئی علاقے خون انسانی سے لالہ زار ہوئے۔ کنٹرول لائن سے لگ بھگ تیس کلومیٹر دور چہل کے مقام پر لگ بھک دو لاکھ لوگوں پر مشتمل لوگوں کے ایک جم غفیر پر پولیس اور فوج نے فائرنگ کی جس میں کم ان کم چار افراد جاں بحق ہوگئے جن میں سینئر حریت لیڈر اور سابق عسکری کمانڈر شیخ عبدالعزیز بھی شامل ہیں۔ فائرنگ کے دیگر واقعات میں سنگرامہ میں دو اور قمرواری (سرینگر) میں ایک شخص شامل ہیں۔ مظاہرین پر فائرنگ کے درجنوں واقعات میںتین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی ایک کی حالت نازک ہے۔ شہراور قصبہ جات کے اسپتالوں میں ضروری ادویات کی کمی کی وجہ سے ہلاکتوں میں اجافہ ہونے کا خدشہ ہے دوسری جانب پولیس نے کم از کم دومرتبہ صدر اسپتال کے کیجولٹی بلاک پر حملہ کیا ، ٹیئر گیس اور گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے میں مشکلات پیدا ہوگئیں۔ حریت لیڈروں نے عالمی اداروں سے ''سرکاری دہشت گردی''روکنے اور ادویات کی سپلائی بھیجنے کی اپیل کی ہے۔
''یہ ایک انقلاب تھا۔ سڑکوں پر لوگوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر امڈ آیا اور آزادی کے نعرے بلند کرتا ہوا مظفر آباد کی جانب مارچ کرنے لگا''، یہ الفاظ اعجاز احمد نامی ایم بی اے طالب علم کے تھے جو سوپور سے اس تاریخی جلوس میں شامل ہوا۔ انکے مطابق جلوس میں زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ لوگ شامل ہوئے ۔ ایک عینی شاہد نے اطلاعات کو بتایا کہ جونہی لوگوں کا سمندرچہل نامی بستی کے نزدیک ملٹری پوسٹ کے نزدیک پہنچا تو فوجی اہلکاروں نے ایک گولہ نزدیکی پہاڑی کی جانب داغ دیا ۔ ابھی جلوس کے شرکاء صورتحال کو سمجھ ہی نہیں پائے تھے کہ اہلکاروںنے اندھادھندکولیاں چلائیں اور برا ہ راست جلوس کے قائدین شبیر شاہ اور شیخ عبدالعزیز کو نشانہ بنایا۔ ''فوجی اہلکاروں نے تقریباًدو گھنٹے تک رک رک کر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
اطلاعات کے فوٹو گرافرسجاد راجا نے شیخ عبدلعزیز کے ساتھ گولی لگنے کو بعد اسوقت گفتگو کی جب انہیں ایک ٹرک میں سوار کرکے بارہمولہ کی طرف لیجایا جارہا تھا۔راجا کے مطابق شیخ نے انہیں کہا کہ وہ ٹھیک ہیں لیکن خون مسلسل انکے جسم سے رس رہا تھا۔ کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد جن انہیں پانچ بجے کے قریب صدر اسپتال پہنچایا گیا تو کافی مقدار میں خون ضائع ہونے کی وجہ سے انکی موت واقع ہوگئے۔اس واقعے میں بشیر احمد ملہ اور عبدالحمید بٹ ساکن مائکروویو کانلی باغ بھی جاں بحق ہوگئے۔
ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق وادی کے طول وعرض میں مظفرآباد جانے والے قافلے میں شامل ہونے کی کوشش کرنے والے لوگوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران مظاہرین پر ٹیرگیس شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات میں 300سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس کے کئی آفیسر، کئی خواتین ، ایک دولہا اور سی آرپی ایف کے نصف درجن افراد شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ پتھراؤ کے دوران کم از کم ایک سو اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف مقامات پر مشتعل مظاہرین نے پولیس کی کئی گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ نصف درجن بنکروں کو منہدم کردیا۔ تفصیلات کے مطابق فروٹ گرورس کی طرف سے 'مظفرآباد چلو' کال جسے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کی حمایت حاصل تھی ، کے تحت کل مظفرآباد مارچ کی شروعات فروٹ منڈی سوپور سے کی گئی۔ اتوار شام سے ہی اس پروگرام کے تحت میوہ تاجروں نے میوہ بردار ٹرکوں کو سجا کر رکھاتھا اورہزاروں افراد رات بھر منڈی میں ہی قیام پذیر رہے۔ پولیس اور فوج نے کل شام سے ہی سوپور فروٹ منڈی کو اپنی تحویل میں لے لیاتھا اور 6بجے کے قریب ناکہ بندی کے دوران مظفرآباد کی طرف روانہ کی جانے والی میوہ بردار ٹرکوں اور دیگر گاڑیوںکا پنکچر کیاگیا اور اس دوران پولیس نے منڈی پر دھاوا بول کر وہاں موجود آل ویلی فروٹ گرورس اینڈ ڈیلرس ایسو سی ایشن کے عہدیداروں کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ چنانچہ اس موقعہ پر پولیس اور فروٹ گرورس ایسو سی ایشن ومقامی لوگوں کے درمیان مزاحمت ہوئی جس کے جواب میں پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے ۔ پولیس کارروائی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے فوراً بعد سوپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مساجد کے لائوڈ اسپیکروں پر لوگوں کو واقعہ سے آگاہ کیاگیا۔ اعلان سنتے ہی سوپور اور اس کے ملحقہ علاقوں کے مرد وزن گھروں سے باہر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعدادمیں لوگ فروٹ منڈی کی طرف دوڑ پڑے۔ اس بیچ حریت کانفرنس کے سینئر لیڈرشبیراحمد شاہ اور شیخ عبدالعزیز بھی فروٹ منڈی میں نمودار ہوئے اور اس طرح وہ بھی جلوس میں شامل ہوئے۔30میوبردار ٹرکوں پر مشتمل قافلے کے ہمراہ لوگوں کا بھاری جلوس منڈی سے باہر آکر سنگرامہ کی طرف بڑھنے لگا جس کے دوران سوپور کے ملحقہ علاقوں جن میں امرگڈھ، پتو کھاہ ، واگورہ اور دیگر علاقوں سے بھی ہزاروں افراد پر مشتمل جلوس آرہاتھا اور سنگرامہ کے قریب یہ جلوس بھی فروٹ منڈی سے آنے والے جلوس میں ضم ہوا۔ اس طرح سے لوگوں کا یہ سیلاب جونہی سنگرامہ کے قریب پہنچا تو وہاں پولیس اور فوج نے پہلے ہی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور پولیس نے اس موقعہ پر جلوس کو روکنے کی کوشش کی تاہم جلوس میں شامل لوگ ''خونی لکیر توڑ دو ، آر پار جوڑ دو، فرقہ پرستی منظور نہیں، فرقہ پرستوںکو لگام دو'' کے نعرے بلند کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ پولیس نے مشتعل لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے لیکن مشتعل ہجوم نے اس موقعہ پر وہاں کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹالی اور سی آر پی ایف کے ایک بنکر کو منہدم کردیا۔اس موقعہ پر جلوس کو قابو کرنے کیلئے پولیس نے گولی چلادی جس کے نتیجے میں طارق احمدلون ولدنذیراحمد ساکن لالڈ سوپور موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ 20دیگر افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے 4کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔تاہم 12بجے تک سوپور اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد عرفان احمد ولد بشیراحمد ساکن کرانکشون کالونی سوپور نامی زخمی زندگی کی جنگ ہار کر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس فائرنگ سے ہوئی ہلاکت کے بعد لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس پر زبردست پتھرائو کیا اور وہاں موجود ایس پی بارہمولہ اور اے ایس پی بارہمولہ کی گاڑیاں نذرآتش کردیں۔ جلوس میں شامل لوگوں نے طارق احمد کی لاش ان کے ہمراہ ٹرکوں کے قافلے میں چڑھادی اور بارہمولہ کی طرف کوچ کیا ۔جلوس تمام رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا جونہی خانپورہ بارہمولہ پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی موجود20میوہ بردار ٹرکوں، 35مسافر بسوں، 10ٹریکٹروںاور100کے قریب دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوںمیں لوگ سوار ہوئے اور جلوس آگے بڑھتا گیا۔جلوس3بجکر 15منٹ پر نوشہرہ اوڑی پہنچ گیا جہاںچہلا پوسٹ کے مقام پر پولیس اور فورسز نے پہلے ہی خندق کھودی تھی اور سی آر پی ایف اہلکار مورچہ زن ہوگئے تھے۔ اس موقعہ پر پولیس اور فورسز نے جلوس کو روکنے کیلئے اندھادھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حریت لیڈر شیخ عبدالعزیز سمیت40سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں اور شدید فائرنگ کے نتیجے میںوہاں قیامت کا سماں پیدا ہوا اور لوگ زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں جٹ گئے ۔حریت کانفرنس(ع) کے ایگزیکٹیو ممبر شیخ عبدالعزیز کو شدید زخمی حالت میں سرینگر کے صدراسپتال پہنچایاگیا جہاں آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر کافی جدوجہد کے بعد انہیں بچانے میں ناکام رہے اور وہ جاں بحق ہوگئے۔ ادھر اوڑی کے کمان پوسٹ اور بونیار سے آگے کئی کلو میٹر تک فوج نے جنگلی حکمت عملی کے تحت سڑک کاٹ کرخندقیںتیار کرلی ہیں تاکہ جلوس کے ساتھ گاڑیوں کو سڑک کے پار نہ پہنچایا جاسکے۔ اس کے علاوہ فوج نے جگہ جگہ درخت کاٹ کر سڑک پرڈال دئے ہیں جبکہ کئی جگہوں پر بلڈوزروں کے ذریعے سڑک پر پسیاں اور بھاری چٹانیں گراکر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔تاہم آخری اطلاعات ملنے تک چہلا اوڑی کے مقام پر ہزاروں افراد دھرنے پر تھے اور اوڑی کے عوام نے جلوس میں شامل لوگوں کیلئے طعام کا انتظام کیاتھا جس میں مشروبات تقسیم کی جاتی تھی جبکہ بارہمولہ کے راستے جلوس میں شامل لوگوں پر شیرینی پھینکی جارہی تھی۔شام گئے مظاہرین نے بارہمولہ اور شیری میں پولیس تھانوںپر حملہ کیا اور دونوں تھانوں میں آگ لگادی، مشتعل ہجوم نے ایک پولیس افسر خورشید خان کے رہائشی مکان میں بھی آگ لگادی۔ لوگوں کا الزام تھا کہ مزکورہ افسر مظاہرین پر گولیاں چلانے میں ملوث تھا۔ ادھر پروگرام کے تحت کل صبح شہر سرینگر کے متعدد علاقوں سے لوگ جلوس کی صورت میں مظفرآباد چلو کال کے تحت جلوس کی صورت میں فروٹ منڈی پارمپورہ کی طرف بڑھنے گے۔ راجوری کدل سرینگر سے ایڈوکیٹ شاہد الاسلام اور جاوید احمد میر کی سربراہی میں جلوس نکلا جو پائین شہر کے کئی علاقوں سے گذرتا ہوا قمرواری چوک پہنچ گیا۔ اس بیچ ٹینگہ پورہ اور اسکے ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی جلوس کی صورت میں بمنہ بائی پاس سے ہوتا ہوا جونہی قرواری چوک کے قریب پہنچا تووہاں موجود پولیس اور فورسز کی بڑی تعداد نے مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ تاہم مشتعل ہجوم آگے بڑھتا رہا اور پارمپورہ کے قریب ہجوم کو بے قابو ہوتا دیکھ پولیس نے گولی چلادی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان اشفاق احمد کینا ولد غلام محمد ساکن قمرواری گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک درجن کے قریب زخمی ہوگئے۔ اس جلوس میں ٹریڈرس فیڈریشن اورفروٹ گرورس سے وابستہ لیڈران شامل تھے۔ ادھر فروٹ منڈی پارمپورہ کو اتوارشام سے ہی پولیس نے تحویل میں لے لیاتھا اور وہاں فروٹ گرورس کی طرف سے نصب خیمے کو اکھاڑ دیا اور کل کسی بھی گاڑی کو سوپور کی طرف جانے کی اجازت نہی دی گئی ۔ دریں اثناء شمالی کشمیر کے ہندوارہ ،کپوارہ ، ترہگام ، ریگی پورہ، لنگیٹ ، گوشی، ماور، کرالہ گنڈ،وترگام میں مظفرآباد چلو پروگرام کے تحت جلوس نکالے گئے جس کے دوران کرالہ گنڈ لنگیٹ اور ریگی پورہ کپوارہ میں پولیس اور مظاہرین کے مابین زبردست جھڑپیں ہوئیں اور ان جھڑپوں میں 2درجن افرد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کپوارہ قصبے میں ریگی پورہ اور مین چوک کپوارہ میں پولیس نے مظاہرین پر اشک آور گیس کے گولے داغے اورہوا میں گولیوں کے درجنوں رائونڈ چلائے۔ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیںہوئیں جس کے دوران 9پولیس اہلکاروں سمیت21افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور اسے شدید زخمی حالت میں سرینگر کے صورہ اسپتال منتقل کیاگیا۔ ادھر جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور پلوامہ اضلاع کے متعدد علاقوں میں جلوس نکالے گئے اور پروگرام کے مطابق فروٹ منڈی شوپیاں سے میوہ بردار ٹرکوں سمیت لوگوں کا ایک بڑا جلوس سرینگر کی طرف روانہ ہوا اور کاکہ پورہ کے قریب 100گاڑیوں پر مشتمل ہزاروں کا قافلہ جونہی وہاں پہنچا تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ فائرنگ کی بھی کی جس کے نتیجے میں سبزار احمد ، جاوید احمد ، محمد اشرف صوفی ،شبنم وگے اور ایک خاتون سمیت10افراد گولی لگنے سے زخمی ہوگئی جنہیں فوری طور پر پلوامہ اسپتال پہنچایاگیا جہاں ان میں 5کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ زخمیوں میں سے 8دن کا دولہا بھی شامل ہے۔ ادھر میمندر شوپیاں میں نکالے گئے جلوس پر گاگرن کے قریب سی آر پی ایف اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کے دوران وہاں مظاہرین اور فورسزا ہلکاروں کے مابین جھڑپیں ہوئی جن میں سی آر پی ایف اہلکار سیف الدین بیلٹ نمبر060721627 ساکن بہار سمیت 10افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران پنجورہ شوپیاں سے آنے والے جلوس کا ٹکرائو نالہ رمبی آرہ پل پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہوا اور مظاہرین نے وہاں سنگباری کرکے 5اہلکاروں کو زخمی کرکے بنکر کو منہدم کردیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور ہوائی فائرنگ کی ۔ ادھر کیگام شوپیاں میں بھی پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے 20افراد کو زخمی کردیاجس کے جواب میں مظاہرین نے دریائے جہلم پر قائم پولیس پوسٹ کو نذرآتش کردیا۔ ادھر سامبورہ پلوامہ اور ٹہاب پلوامہ میں بھی مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں 40افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ تاہم اننت ناگ میں جلوس پرامن رہے اور مین چوک اننت ناگ میں بہت بڑا جلوس نکلا جو فرقہ پرستوں کے خلاف نعرے بازی کرتا رہا۔ دریں اثناء چرار شریف سے میںصبح لوگوں کا ایک ہجوم جونہی فروٹ منڈی چرار شریف کے قریب پہنچا اور پولیس نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جس کے نتیجے میں جھڑپوں میں پولیس کے کئی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ادھر جموں کی مسلم آبادی نے پروگرام کے تحت کل پونچھ راولا کوٹ کے راستے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کیا۔(مشمولات کے این ایس

No comments: