Tuesday, August 12, 2008

پہلے آشیانوں کو جلاڈالا اور اب مگرمچھ کے آنسو،جموں میں 300مسلمانوں کے مکان نذرآتش

سنگھرش سمیتی اور دیگر تنظیمیں متاثر مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے سرگرم

جان محمد
جموں// جموں صوبے میں جاری امرناتھ شرائین بورڈ سنگھرش سمیتی کے جھنڈے تلے جاری احتجاجی مظاہرہ جو گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے'کے دوران لگ بھگ300کے قریب مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیاگیا اور کروڑوں کا مالی نقصان پہنچایاگیا۔ ڈیڑھ ماہ سے جاری مسلمان آبادی کی اس تباہی کی حکام کو کوئی خبرنہیں ۔گوجربستیوں پرقیامت برپاکی جاتی رہی لیکن یہ بستیاں میڈیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہیں۔اب'روزنامہ اطلاعات' میں شائع رپورٹ کے بعد جہاں سرکاری انتظامیہ حرکت میں آگئی ہے وہیں امرناتھ سنگھرش سمیتی اور اس کی دیگر ساتھی جماعتوں و تنظیموں نے بھی اب مسلمانوں کے تئیں ہمدردیاں دکھانا شرو ع کر دی ہیں۔امرناتھ سنگھرش سمیتی نے اپنے نمائندوں کوجموں کی نوتشکیل شدہ مسلم فرنٹ جموں کیساتھ ہر جگہ جہا ں جہاں مسلمانوں کیساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں وہاں موقعے پر جاکرنقصانات کاجائزہ لینے اور وہاں کے خوف و ہراس میں مبتلا مسلم کنبوں میں اعتماد بحال کرنے اور وہاں کی ہندوآبادی کوانہیں تحفظ دینے کیلئے زوردارمہم شروع کر دی ہے۔امرناتھ سنگھرش سمیتی ،آل جموں و کشمیر راجپوت سبھا جموں کے عہدیداروں اور مسلم فرنٹ جموں کے عہدیداروں کی یہ ٹیم لگاتار11اگست سے اُن مقامات کادورہ کر رہی ہے جہاں مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیاگیا ہے، لوٹاگیا ہے اور جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے۔مسلم فرنٹ جموں کے چیف پٹرن پروفیسر ظہور الدین ہیں ،پیٹرن انجینئر عبدالغنی کوہلی ،صدر حمید چودھری اور نائب صدور میں چودھری بشیر احمد کھٹانہ اور عاشق حسین خان شامل ہیں۔فرنٹ کے پیٹرن عبدالغنی کوہلی نے 'اطلاعات'کوبتایا کہ گذشتہ روز وہ جوڑیاں گئے اور ان کے ہمراہ راجپوت سبھا کے صدر ٹھاکرنارائین سنگھ، سنگھرش سمیتی کے ایم ۔ایس ۔کٹوچ،ایم ایس جموال،راجیش جین ،موہن سنگھ چوہان ،سردار وریندرجیت سنگھ صدر انٹرنیشنل سکھ یونین شامل ہیں۔اُنہوںنے مزید بتایا کہ جوڑیاں میں ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے مقامی مسلم بستی پربرپا کی گئی قیامت صغری بارے انہیں آگاہ کیاگیا۔واضح رہے اکھنوراور مڑھ میں مجموعی طور پر109کنبے متاثر ہوئے ہیں۔راجپوری منڈی ،مڑھ،کانہ چک، گکوال اور جوڑیاں کے دورے کے بعد کل یعنی منگل کو اس ٹیم نے سانبہ کے اُن علاقوں کادورہ کیا جہاں مسلم بستیوں کو نذر آتش کیاگیا ہے۔اس سلسلے میں سانبہ کے رائے پور علاقے میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی میٹنگ میں مسلم فرنٹ جموں کے پیٹرن عبدالغنی کوہلی،نائب صدر چودھری بشیر احمد کھٹانہ ،راجپوت سبھا کے ٹھاکر نارائین سنگھ، سنگھرش سمیتی کے ایم ۔ایس ۔جموال کے علاوہ لگ بھگ 200کے قریب مسلم طبقہ کے لوگ اور70سے80کے قریب مقامی ہندوآبادی کے لوگ موجودتھے۔اس موقعہ پرمسلم طبقے کے نمائندوں نے ہندوبلوائیوں کی کاروائیوںکی کڑے الفاظ میں مذمت کی اور سنگھرش سمیتی کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اُن کیساتھ ایسے کسی بھی مسئلہ پر ساتھ نہیں دیں گے جہاں مذہبی اقدار کوٹھیس پہونچے تاہم جموں کیساتھ ناانصافیوں و بھیدبھائو جیسے معاملات میں مسلمان جموں کیساتھ ہے اور اپنے حقوق کی لڑائی میں وہ اُن کیساتھ ہے تاہم اگر اُنہیں کوئی یہ کہے کہ وہ 'بم بم بولے کے نعرے لگائیں تو یہ قابل برداشت نہیں ہوگا۔مقامی مسلم راہ نما محمد شفیع نے صاف طو رپر کہا کہ وہ ہندوئوں کی ایجی ٹیشن کیخلاف نہیں لیکن اُن کیساتھ جو حرکت کی گئی ہے وہ قابل افسوس ہے۔اس موقعہ پر راجپوت سبھا کے صدر ٹھاکر نارائین سنگھ نے صاف طور پر کہا کہ انہوںنے امرناتھ سنگھرش سمیتی کو یہ بات واضح کر دی ہے کہ اگر جموں کی اقلیت کو تحفظ فراہم نہیں کیاگیا تو سمیتی کسی بھی طرح سے اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگی اور وہ ایسی سمیتی کو خیرباد کہہ دیں گے۔اُنہوںنے ہندوئوں کو خبردار کیا کہ وہ یہاں کے مسلمان بھائیوں کیساتھ آپسی بھائی چارہ کیساتھ رہیں اور شر پسندعناصر کی سازشوں کوناکام بنائیں۔انہوںنے کہا کہ یہ لڑائی سچ اور جھوٹ کی لڑائی ہے اسے ہندو اور مسلمانوں اور جموں اور کشمیر والوں کی لڑائی بنایا جارہا ہے اور ایسے منصوبے مفاد پرست عناصر بنا رہے ہیں۔تاہم جموں کے مسلما ن ہندوشرپسندوں کی جانب سے ان کے گھروں کونذر آتش کئے جانے سے کافی خفااور خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور اب ان کوششوں کو اہمیت کی حامل قرار دینے کیساتھ ساتھ سوال اُٹھارہے ہیں کہ ہندئوں نے پہلے ان کے گھرجلادئیے اور ان کی قومیت جاننے کیلئے 'اگنی پریکشا'یعنی ان کے بسیروں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا اور اب بھائی چارہ کاراگ الاپتے ہوئے ان راکھ کے ڈھیروں پرآنسوبہاناشروع کردئے ہیں۔سانبہ میں کل27گھروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

No comments: